حضرت ایوب علیہ السلام کواللہ تعالی نے ہر طرح کی نعمتیں عطا فرمائی تھیں حسن صورت بھی ۔ کثرت اولاد بھی اور کثرت اموال بھی ۔ اللہ تعالی نے آپ کوابتلا میں ڈالا ۔اور آپ کے فرزند اولاد و مکان کے گرنے سے دب کر مر گئے ۔
تمام جانور جن میں ہزار ہا اونٹ اور ہزار ہا بکریاں تھیں سب مر گئے ۔تمام کھیتیاں اور باغات بر باد ہو گئے۔ کچھ باقی نہ رہا۔اور جب آپ کو ان چیزوں کے ہلاک ہونے اور ضائع ہو جانے کی خبر ملتی ۔
تو آپ حمد الہی بجالاتے اور فرماتے تھے میرا کیا ہے۔جس کا تھا اس نے لے لیا۔ جب تک مجھے دیا۔ میرے پاس رہا اس کا شکر ہی ادا نہیں ہو سکتا۔ میں اس کی مرضی پر راضی ہوں ۔ پھر آپ بیمار ہو گئے بدن مبارک پر آبلے پڑ گئے ۔ جسم شریف سب زخموں سے بھر گیا ۔
سب لوگوں نے چھوڑ دیا۔ بجز آپ کی بی بی صاحبہ کے کہ وہ آپ کی خدمت کرتی رہی اور یہ حالت کتنی مدت تک رہی ۔ آخر ایک روز حضرت ایوب علیہ السلام نے اللہ سے دعا کی ۔تو اللہ تعالے نے فرمایا۔
اے ایوب! تو اپنا پاؤں زمین پر مار۔ تیرے پیر مارنے سے ایک ٹھنڈا چشمہ نکل آۓ گا۔ اس کا پانی پیا ۔اور اس سے نہانا۔ چنانچہ حضرت ایوب علیہ السلام نے اپنا پاؤں زمین پر مارا تو ایک ٹھنڈا چشمہ نکل آیا۔ جس سے آپ نہاۓ اور پانی پیا۔تو آپ کا تمام مرض جاتا رہا۔

0 تبصرے