بیش قیمت موتی
شام کی لڑائی میں ہرقل شاہ روم نے حضرت عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ تعالی عنہ اور ان کے ساتھ اسی صحابہ کرام کو قید کر لیا تو حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ نے ہرقل کے نام ایک خط لکھا جس میں ہرقل کو حکم دیا کہ وہ مسلمانوں کو رہا کر دے ورنہ اس پر چڑھائی کر دی جاۓ گی۔
شاہ روم نے یہ خط پا کر مسلمانوں کو ر ہا کر دیا اور رخصت کے وقت بہت سے بیش قیمت موتی حضرت امیر المونین فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کی خدمت میں بھیجے۔ جب وہ تحفہ مدینہ منورہ میں حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کی خدمت میں پیش ہوا تو آپ نے ان کی قیمت کو اہل مدینہ کے جو ہر یوں سے جانچ کرایا۔
جو ہر یوں نے بتایا کہ ان کی قیمت زائد ہے اسے کہ جو کوئی کچھ لگائے۔صحابہ کرام نے حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ سے عرض کیا کہ ہرقل نےتحفہ آپ کو بھیجا ہے آپ کو مبارک ہو یہ ہدیہ ہے، آپ ہی قبول فرما لیجئے ۔
حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا تمہاری اجازت سے یہ موتی میرے لئے کس طرح درست ہو سکتے ہیں جب تک سارے جہاں کے مسلمان اجازت نہ دیں۔ بتاؤ پھر کس طرح مجھے اجازت مل سکتی ہے۔ان مسلمانوں سے جو ابھی تک ماں کے پیٹ میں ہیں اور عمر میں اتنی طاقت نہیں کہ جو قیامت کے دن - ان بچوں کی حق تلفی کی جواب دہی کر سکے۔ پھر حکم دیا کہ ان موتیوں کو فروخت کیا جاۓ اور اس کا رو پیہ بیت المال میں داخل کیا جاۓ ۔

0 تبصرے