سخی گھرانا

 سخی گھرانا

سخی گھرانا | sakhi gharana


ایک مرتبہ حضرت امام حسن ،حضرت امام حسین اور حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ تعالی عنہ حج کو چار ہے تھے کہ جس اونٹ پر زاد راہ لدا ہوا تھا وہ اونٹ کہیں پیچھے رہ گیا، ایک جگہ بھو کے پیاسے ہوکر ایک بڑھیا کی جھونپڑی میں تشریف لے گئے اور فرمایا کچھ پینے کو ہے؟ اس نے عرض کی ہاں ہے، اس بڑھیا کے پاس ایک بکری تھی اور اس کا دودھ دوہ کر حاضر کیا۔

انہوں نے پیا۔ پھر پوچھا کچھ کھانے کو  بھی ہے؟ اس نے جواب دیا کہ تیار نہیں ہے۔ اسی بکری کو ذبح کر کے کھا لیجئے ۔ چنانچہ وہ بکری ذبح کی گئی اور اسے کھا کر فرمایا! بڑی بی! ہم قریش میں سے ہیں۔ جب اس سفر سے پھریں گے تو ہمارے پاس آنا۔

ہم تیرے احسان کا بدلہ دیں گے  یہ فرما کر روانہ ہوگئے ۔ جب اس بڑھیا کا خاوند ھر پہنچا تو خفا ہوکر کہنے لگا کہ تو نے بکری ان لوگوں کو کھلا دی جن کو تو جانتی بھی نہیں کہ دہ کون ہیں ۔تھوڑے دن گزرے تھے کہ وہ میاں بیوی مفلسی کے باعث مدینہ منورہ میں آپڑے۔

اور اونٹ کی لینڈ یاں چن چن کر بیچنے لگے۔ ایک دن بڑھیا کہیں جاتی تھی کہ حضرت امام حسن رضی اللہ تعالی عنہ اپنے در دولت پر تشریف فرما تھے ۔ آپ نے اس بڑھیا کو دیکھ لیا اور پہچان لیا اوراسے بلا کر فرمایا بڑی بی مجھے پہچانتی ہے؟ اس نے عرض کیا نہیں۔

فرمایا! میں وہ شخص ہوں جوفلاں دن تیرا مہمان ہوا تھا۔ بڑھیا نے بغور دیکھا اور بولی ، ہاں ہاں پہچان گئی ۔ واقعی آپ میری جھونپڑی میں تشریف لاۓ تھے۔ حضرت امام حسن رضی اللہ تعالی عنہ نے تحکم فرمایا کہ ایک ہزار بکریاں خرید کر اس بڑھیا کو دی جائیں اور ساتھ ہی ایک ہزار دینار نقد بھی دیا جاۓ ۔ چنانچہ تعمیل ارشاد کی گئی اور بڑھیا کو ایک ہزار بکریاں اور ایک ہزار دینار نقد دے دیا گیا اور پھر حضرت امام حسن نے اپنے غلام کو ساتھ کر کے اس بڑھیا کو حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس بھیج دیا۔

حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ اس سے پو چھا کہ بھائی صاحب نے ہمیں کیا دیا؟ بڑھیا نے جواب دیا کہ ایک ہزار بکریاں ۔ ایک ہزار دینار حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ نے بھی ایک ہزار بکریاں اور ایک ہزار دینار اور  اس بڑھیا کو عنایت فرمائے اور پھر آپ نے غلام کے ساتھ اس بڑھیا کو حضرت عبداللہ بن جعفر کے پاس بھیج دیا۔

انہوں نے پوچھا کہ دونوں بھائیوں نے تمہیں کیادیا۔وہ بولی ! دو ہزار بکریاں اور دو ہزار دینار۔ حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ تعالی عنہ نے بھی اس کو دو ہزار بکریاں اور دو ہزار دینار عطافرما دیئے۔ بڑھیا چار ہزار بکریاں اور چار ہزار دینار لے کر اپنے خاوند کے پاس آگئی اور کہنے گی۔ یہ انعام ان سخیوں نے عنایت فرمایا ہے جن کو میں نے بکری کھلائی تھی۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے