سب سے افضل صحابی کون ہیں؟
سب سے افضل
صحابی : طبقات صحابہ سے طبقہ وارا جمالا صحا بئہ کرام کی ایک دوسرے پر فضیلت معلوم
ہوئی اگر اس اجمال کی تفصیل کی جاۓ تو اہل سنت و جماعت کے نزدیک صحابہ کرام کی ایک
دوسرے پر فضیلت علامہ نووی کے بیان کے مطابق اس طور پر ہے:
اہل سنت کا اس
بات پر اتفاق ہے کہ سب سے افضل صحابی حضرت ابو بکر صد یق پھر حضرت عمر پھر حضرت
عثمان پھر حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہم ہیں
( بعض حضرات نے حضرت علی کو حضرت عثان پرفضیلت دی ہے لیکن صحیح اور مشہورقول وہی
ہے جو پہلے ذکر ہوا )
پھر باقی عشرہ مبشرہ پھر اصحاب بدر پھر اصحاب احد پھر اصحاب
بیت رضوان اور بیت عقبہ اولی اواور ثانیہ والے حضرات جو انصار اور سابقین اولین
میں سے ہیں۔
صحابہ کی تعداد کتنی ہے؟
صحابہ کی تعداد: صحابہ کی تعداد
کا بیان ایک دشوار گز ار مرحلہ ہے کیوں کہ حضورصلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم تیس
سال تک لوگوں کو اللہ کے دین کی طرف بلاتے رہے اور اس دوران خلق کثیر آپ سے فیض پا
کر اسلام کی آغوش میں سماتی رہی ،
کتنے لوگ آپ کے دست حق پرست پر اسلام لاتے اور آپ ہی کے ساتھ رہنے لگتے اور کتنے وہ جودور دراز مقامات سے آتے اور ایمان لا کر اسلام کی ضروری تعلیم حاصل کرتے اور جہاں سے آۓ تھے وہیں چلے جاتے ۔
کتنے لوگوں کو اصحاب رسول آتے جاتے دیکھتے اور بسا
اوقات آنے والوں کے ایمان پرکوئی مطلع نہ ہوتا، حضورصلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم
نے اپنے اصحاب کی تعداد بیان فرمائی ۔لہذاصحابہ کی تعداد معین کے ساتھ بیان کر
پانا بہت مشکل ہے۔
اب اس تناظر میں جس نے جو بھی
تعداد بیان کی وہ براۓ تقریب ہے براۓ تحد یدنہیں ۔ تاہم اہل سنت و جماعت کے نزدیک
اتناطے ہے کہ اصحاب رسول کی تعدادایک لاکھ سے متجاوز تھی-
جیسا کہ علی بن
زراعہ رازی سے روایت ہے حضورصلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے وصال
کے وقت ان لوگوں کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ تھی جنہوں نے حضور صلی اللہ تعالی
علیہ وآلہ وسلم کودیکھا اور حضورصلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے کلام کو سنا۔
(الاصابہ ج ا ص: ۳)
یہ معاملہ توصحابہ کی تعداد سے متعلق تھالیکن رہی بات تاریخ کی یاد داشت کی تو
تاریخ صحابہ کے دسویں حصہ کو بھی محفوظ نہیں رکھ سکی ہے۔سیرت صحابہ پر لکھی جانے
والی کتابوں میں سب سے وسیع اور جامع کتاب علامہ ابن حجر عسقلانی کی معرکۃ الآرا
تصنیف الاصابۃ فی تمیزالصحابہ ہے ۔
اس کتاب میں جن صحابہ کوان کے اسما کے ساتھ بیان کیا گیا ہے ان کی کل
تعداد ۹۴۷۷ ہے اور جن کا ذکر ان کی کنیت کے ساتھ ہے ان کی تعداد ۱۲۲۸ اور ۱۵۲۲ صحابیات بھی اس کتاب کے حصہ
ہیں ۔( کل مذکور ین ۱۲۲۶۷)۔ (اصحابہ ومکاتھم ص:۱۵)
یہ تو وہ تعداد ہے جواصابہ میں ذکر ہیں لیکن اس تعداد کا حال بھی یہ ہے کہ ان میں
سے کچھ ایسے حضرات بھی ہیں جن کا صحابی ہونا یقینی طور پر ثابت نہیں جیسا کہ
خودعلامہ نے مقدمہ میں اس کا بیان فرمایا ہے:"القسم الرابع فيمن ذكر في الكتب
المذكورة على سبيل الوهم والغلط "
(الاصابة ج ا،ص: ۴)
اس سے ثابت ہوا
کہ تاریخ نے صحابہ کی جو تعد ادان کی سیرت کے ساتھ محفوظ کی ہے وہ ان کی کل تعداد
سے کم ہے۔
فضائل صحابہ
فضائل صحابہ: اہل سنت اس بات پر متفق ہیں کہ تمام صحابہ کرام عادل ہیں ، اللہ تعالی کے اولیا اور اصفیا ہیں ۔نبیوں اور رسولوں کے بعد تمام مخلوق سے افضل ہیں-
ان کی عظمت شان
کے بیان کے لیے اللہ تعالی نے قرآن پاک میں متعدد آیات نازل فرمائیں اورحضورصلی
اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے بھی احادیث کریمہ میں ان کی خوب توصیف فرمائی ۔
ان
تمام آیات اور احادیث کے احاطے کی کوشش کرنا مضمون کو بہت طویل کر دے گا۔ ہم مختصرا
چند آیات کریمہ اور احادیث پاک پیش کر رہے ہیں:
(۱) محمد رسول الله والذين معه أشداء على الكفار رحماء بينهم ترهم ركعا
سجدا يبتغون فضلًا من الله ورضوانا سيماهم في وجوههم من أثر السجود ذلك مثلهم في
التورة* ومثلهم في الإنجيل: كزرع أخرج شطئه فازره فاشتغلظ فاستوى على شوقه يعجب
الزراع ليغيظ بهم الكفار، وعد الله الذين امنوا وعملوا الصلحت منهم مغفرة وأجرا
عظيما۔
ترجمہ: محمد اللہ کے رسول ہیں اور ان کے اصحاب کافروں پر سخت ہیں اور آپس میں نرم دل ہیں تم انہیں دیکھو گے رکوع کرتے اور سجدے میں گر تے وہ اللہ کا فضل اور اس کی رضا چا ہتے ہیں، ان کی علامت ان کے چہروں میں سجدوں کے نشان ہے،
ان کی صفت توریت میں ہے اور ان کی صفت انجیل میں جیسے ایک کھیتی ہو اس نے اپنی بار یک کونپلیں نکالیں پھر اس نے طاقت پڑی اورموٹی ہوئی
اور اپنے تنے پر کھڑی ہوگئی
کسانوں کو بھلی لگتی ہے تا کہ ان سے کافروں کے دل جلیں اللہ نے وعدہ کیا ان سے
جوان میں ایمان اور عمل صالح والے ہیں بخشش اور بڑے ثواب کا۔
اس آیت کریمہ میں پہلے تو اللہ تبارک و تعالی نے اپنے محبوب کی رسالت کی گواہی
عطافرمائی اور آپ کوتسلی دی کیوں کہ کفار قریش نے صلح حدیبیہ کے صلح نامے پر محمد
رسول اللہ نہیں لکھنے دیا تھا اور انہوں نے کہا تھا ہم آپ کو اللہ کا رسول نہیں
مانتے-
اللہ نے فرمایا: کفار نہیں مانتے تو اس میں انہیں کا نقصان ہے آپ تو یقینا اللہ کے رسول ہیں ۔
پھر آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ
وسلم کے اصحاب کی چند مایۂ ناز خوبیاں بیان فرمائیں۔ وہ کفار پر بہت سخت ہیں اور
آپس میں نرم دل ہیں یعنی جس حال میں وہ کفار پر سخت ہوتے ہیں اس حال میں بھی ایک
دوسرے کے ساتھ محبت کرتے ہیں-
اے مخاطب ! تو
ان کور کوع کرتے ہوۓ اور سجدہ کرتے ہوۓ دیکھتا ہے یعنی وہ بہت زیادہ عبادت کرتے
ہیں اور اللہ تعالی سے جنت اور اس کی رضا طلب کر تے ہیں ۔ پھر اللہ تعالی نے نبی
صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم اور ان کے اصحاب کی مثال بیان فرمائی کہ وہ پہلے
تھوڑے تھے پھر آہستہ آہستہ زیادہ ہوتے چلے گئے ۔
نبی
کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ وسلم دعوت دیتے گئے اورلوگ ایک ایک کر کے ایمان
لاتے گئے یہاں تک کہ آپ کادین بہت مضبوط ہو گیا جیسا کہ کھیت میں ابتدا ایک بیج
ہوتا ہے پھر ایک بار یک اور کمزور سی کونپل نکلتی ہے پھر وہ کھیت دن بدن قوی ہوتا
چلا جا تا ہے-
یہاں تک کہ وہ ہرا بھرا ہوکر
لہلہانے لگتا ہے،کھیت حضورصلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم ہیں اور شاخیں اور
کونپلیں آپ کے اصحاب ہیں جوابتدا کمزور تھے اور پھرقوی ہوتے چلے گئے –
ان کی اس
مضبوطی اور ترقی پر اعداے دین جل بھن کر کباب ہو گئے۔ ہم نے مختصرا آیت کا مفہوم
واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔ قارئین انداز کر سکتے ہیں کہ اللہ تعالی نے کس انداز میں
اپنے محبوب کے غلاموں کی شان بیان فرمائی ہے۔ یہ صرف اور صرف اصحاب رسول ہی کا حصہ
ہے ۔
hazrat usman ghani radi allah ta'ala anh

0 تبصرے