کیا سب صحابہ عادل ہیں؟
سب صحابہ عادل ہیں: علامہ ابن حجر عسقلانی تحریرفرماتے ہیں: اتفق أهل السنة ان الجميع عدول ولم يخالف في ذالك الا الشذوذمن المبتدعة"
تر جمہ: سارے صحابہ عادل ہیں اس پر تمام اہل سنت کا اتفاق ہے اور اس معاملے میں چند بدعتیوں کو چھوڑ کر کسی کا اختلاف نہیں ہے۔
علامہ نے اس مقام پر ذکر کی ہیں۔ پھرفرماتے ہیں ان کے سوا کثیر آیات جن کے ذکر کاسلسلہ بڑاطویل ہے اوراحادیث شہیرہ جن کی تعداد کثیر ہے اس مفہوم سے متعلق موجود ہیں جو سب اس بات کی مقتضی ہیں کہ صحابہ قطعی طور پر عادل ہیں۔
اور جب خالق تعالی نے ان کی عدالت کا بیان فرما دیا تو انہیں اب کسی کی ضرورت نہیں کہ عام مخلوق میں سے کوئی ان کی عدالت بیان کرے۔
صحابہ کا عادل ہونا عقل کا تقاضا: علامہ ابن حجر مزید تحریر فرماتے ہیں صحابۂ کرام کے بارے میں جونصوص ہم نے ذکر کیے اگر ان میں سے ایک بھی نہ ہوتا تب بھی ان کی وہ حالت جس پر انہوں نے زندگی گزاری اس بات کی مقتضی ہے کہ وہ قطعا و یقینا عادل ہیں۔
یادکرو! ایمان لانے کے بعدان کا ہجرت کر نا، راہ خدا میں ان کا جہاد، ہر موڑ پر اسلام کی مدد، اللہ کی راہ میں جان و مال کی قربانی ، دین کے لیے اپنے ماں باپ ، زن و اولاد کو قتل کر دیا، ہر لمحہ دین حق کی خیر خواہی اور پھر ان کے ایمان ویقین کی لازوال قوت، یقینا یہ سب ان کی عدالت اور ہر باطل چیز سے نز اہت ( ستھرا پن) کے لیے کافی ہے۔
جو شخص صحابہ کرام کی برائی کرے اس کے بارے میں کیا گمان رکھیں؟
لہذاصحابہ پر جرح قبول کرنے سے ہمارے لیے یہ بات آسان اور اولی ہے کہ جولوگ صحا بہ کوغیر معتبر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، ہم ان پر زندیق ہونے کا حکم نافذ کر دیں۔
یہاں تک کہ پوری بحث حافظ ابن حجر عسقلانی نے علامہ خطیب کے حوالے سے بیان فرمائی ہے ۔ ( ایضا)
صحابہ اتنے افضل کیوں ہیں؟
فضیلت کا سبب : عمل کر نے والے کوفضیلت ان کے عمل کے اعتبار سے حاصل ہوتی ہے کہ معمول بہا اپنی ماہیت کے اعتبار سے کیا ہے آیا و فرض ہے یا کچھ اور پھر فرائض میں بھی درجات کا تفاوت برقرار ہے۔
انسان پر سب سے اہم فرض ایمان لانا ہے ۔ظاہری بات ہے فرض پر عمل کرنے والے کا درجہ فرض کو چھوڑ کر نوافل میں مشغول ہونے والے سے زیادہ ہوگا۔
کبھی عمل کرنے والوں کے اعمال کمیت اور کیفیت میں مختلف ہوتے ہیں جس کی وجہ سے عاملین کے درجات متفاوت ہو جاتے ہیں۔
جیسے کہ ایک انسان خلوص دل سے اللہ کو راضی کرنے کے لیے کام انجام دیتا ہے تو دوسرے کے فعل میں ریا کاری کی ملاوٹ ہے۔
عاملین کے اجر وثواب بڑھانے اور ان کے فضائل میں اضافہ کرنے میں زمان و مکان اور اضافت سب سے بڑے عوامل واسباب ہیں۔ زمان سے ہماری مراد وہ کام کسی زمانے میں کیا گیا۔ مکان سے مراد وہ کام کہاں کیا گیا۔
اضافت کا مطلب وہ کام کس کی صحبت وسنگت میں کیا گیا۔ جیسے حرم کعبہ اور مسجد نبوی و بیت المقدس میں ادا کی گئی نمازوں کا ثواب دوسری جگہ پر ادا کی جانے والی نمازوں سے بہت زیادہ ہے۔
ہمارے ذکر کردہ اسباب میں زمان و اضافت یہ دونوں وہ اسباب ہیں جو اصحاب رسول کے سوا دنیا کے کسی دوسرے مسلمان کو حاصل نہیں۔
کیوں کہ جس زمانے میں اصحاب رسول نے اسلام پر عمل کر کے دکھایا یہ وہ زمانہ ہے جواپنی سختی ،شدت، فاقہ کشی ،نزول مصائب و آلام ، تنگ دستی ، اجنبیت ، عددی قلت ، کمزوری ظلم و جبر اور تعدی میں اپنی مثال آپ ہے۔
تاریخ نے اس سے پہلے اہل حق کے ساتھ اتنے کثیر مہلکات کو بھی روا نہ رکھا نہ اب قیامت تک میں تاریخ کبھی دہرائی جاۓ گی ۔
یہی وجہ ہے کہ ابن تیمیہ جیسے غالی ،ضال مضل شخص کو بھی یہ کہنا پڑا کہ جماعت صحابہ کاہر ہر فر د بعد میں آنے والوں کے ہر ہر فر د پر فضیلت رکھتا ہے ( خواہ بعد میں آنے والا اپنے وقت کا تقی اعظم ہی کیوں نہ ہو )(الصحابة ومكانتهم ص:۲۲)
اس پر مزید یہ کہ صحابہ ہی پیغام الہی ،قرآن کریم اور احادیث کریمہ کے ناتل بھی ہیں اور نزول پیغام الہی کے ناظر بھی اور دین حق کے ناشر بھی۔
یہ نہیں کی محنت و مشقت، جان و مال اور روح و جسم کی خدمات کا ثمرہ ہے کہ عالم کے لیے ہدایت ارزاں ہوئی ،ان کے بعد جس کو بھی ہدایت نصیب ہوئی یا ہوگی علم و عمل کی جتنی بھی قندیلیں روشن ہوکر عالم کو منورکریں گی،
اکناف عالم میں جہاں جہاں بھی کفر والحاد، گمراہی و بدعملی کے طلسم ٹوٹیں گے ان سب کا سبب وعلت صحابہ کرام کی پاکیزہ ذات ہی قرار دی جائیں گی ۔

0 تبصرے