آپ کا جسم اقدس بے سایہ ہے ؟
اللہ تعالی نے اپنے حبیب پاک صاحب لولاک ﷺ کوقرآن پاک میں نور فر مایا اور آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ جو نور ہوتا ہے اس کا کوئی سایہ نہیں ہوتا ، چنانچہ حضرت شیخ عبدالحمید بن محمد علی رحمۃ اللہ تعالی فرماتے ہیں:
قد ورد ان ذات النبی ﷺ كانت نورا حتى انه لم يظهـر لـه ظـل فـى الشـمـس وجميع الانور الحسية والـمـعـنـويـة الـمـتـفـرقة في العالم العلوي والسفلى وكل الاشيـاء مـخـلـوقـة مـن نـوره ﷺ فاالنور المحمدي هو اصـل الـمـخـلوقات كلها كما يدل عليہ الحديث المشهور الـمـروى عـن جـابـر بـن عبد الله الانصاری رضی الله
تعالٰی عنه (الانوار السنية ص13)
علوم خمسه
خالق کائنات کے جود وعطا سے حضور پر نور شافع یوم النشور اشرف - المخلوقات علیہ وآلہ وصحبہ افضل الصلوت والتسلیمات کے علمی مقامات و در جات اور عرفانی فضائل و کمالات بہت ارفع واعلی ہیں اور اس قدر کہ جن کی کوئی حد وانتہا نہیں۔
جن وانس یا کوئی ملک آپ کے علوم عظیمہ اور معارف جزیلہ کا حصر واحصانہیں کر سکتے سواۓ خداۓ علیم وخبیر جل وعلا کے کسی کو خبر نہیں ۔زمین و آسان ، لوح و قلم ، عرش وکرسی آپ کی وسعت علمی سب کو محیط ، ذره ذره ، قطرہ قطرہ ، گوشہ گوشہ اور جو کچھ ہو چکا ، جو ہور ہا ہے ، اور جو ہوگا،
دلوں کے اسرار، کس کے دل میں کیا ہے، ایمان وایقان ہے یا کفر و نفاق ،کون سعید ہے کون شقی ،کون جنتی- ہے ،کون جہنمی ، پس دیوار یا پیش دیوار کون کیا کر رہا ہے، قیامت تک بولی جانے والی زبانیں، جن وانس کی ہوں یاوحوش وطیور کی ، ملائکہ کی ہوں یا دیگر مخلوقات کی ، عربی ہوں یا عجمی ،عبرانی ہوں یا سریانی ، اردو ہوں یا ہندی ،فرشی ہوں یا عرشی سب سے آپ ﷺ آ گاہ۔
لوح محفوظ میں کیا لکھا ہے ، اولین و آخرین کے حالات کیا ہیں غرض ایک ایک بات کوحضورصلی اللہ علیہ وسلم جانتے ہیں۔
ولـكـن الـوهـابـية قـوم لايعقلون وقاتلهم الله انا يوفكون. جہاں تک سوال ہے امور خمسہ (قیامت کب آۓ گی ،بارش کب ہوگی ، ماں کے پیٹ میں کیا ہے کل کیا ہوگا اور کون کب اور کہاں مرے گا) کے جانے کا تو بلا شک و شبہ حضور پرنو رسید عالم فخر بنی آدم ﷺ کو بتعلیم الہی ان پانچ چیزوں کاعلم تھا ،ان کے علاوہ جمیع ماکان و ما یکون کا بھی ۔ اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے:
معالم التنزیل میں ہے : قال ابن كيسان ( خلق الانسان) یعنی محمداً صلى الله عليه وسلم (علمه البيان) یعنی بیان ماکان و مايكون۔
ترجمہ: ابن کیسان نے کہا کہ اللہ نے انسان کو پیدفرمایا اس سے مراد محمد ﷺ ہیں اور آپ کو بیان سکھایا تو اس سے مراد یہ ہے کہ آپ کو اللہ نے عطا کیا وہ جو کچھ ہو چکا اور جو ہوگا۔


1 تبصرے
Mashallah
جواب دیںحذف کریں