حضرت عثمان کون تھے؟ | آپ کا نام عثمان ہے



حضرت عثمان کون تھے- 

تعارف: اللہ تعالی نے عرب کے باشندوں پر خصوصی اور پوری دنیا پر عمومی کرم فرمایا کہ اس نے امیوں کے درمیان امام کا ئنات کومبعوث فرما یا ، بخت کے ان تا جوروں کا کیا کہنا جو نبی رحمت کے دامن الفت سے لپٹ گئے ، یا خود نبی امت نے آگے بڑھ کر انہیں شامیانہ رحمت کے تلے کھینچ کر آتش جہنم سے بچالیا تھا،


تھے وہ کسی زمانہ میں بدکر دار ، اب وہ معلم کائنات کی صحبت سے فیض یاب تھے، کردار ساز تھے ،عشق ومحبت کا آبشار تھے، ان کے سینے خوف خدا سے معمور ،قول کے بچے ،عہد کے پکے ، ان کا ظاہرعمدہ ، اور باطن عمدہ تر تھا، تھے وہ کسی زمانہ میں جاہل ، اجڈ اور گنوار ،اب تو وہ علم وعرفان کے بھر نا پیدا کنار میں غوطہ زن تھے ،


 انہوں نے اس سمندر میں اس کثرت سے غوطہ خوری کی کہ وہ خود حکمت و دانائی کے در یا بن گئے ، ایسے در یا کہ زمانہ اس کی پیمائش کر نے سے عاجز تھا، اخلاق ریشم سے زیادہ نرم ہو چکا تھا ،ان کی ذاتیں شب دیجور میں ستارہ تھیں ۔ تھے وہ کسی زمانہ میں بے حیا، فحش گو اور بدزبان ،


 اب تو وہ کان حیا کے پڑوس اور تلامذہ تھے ان سے بے حیائی دورتھی وہ بے حیائی سے نفور تھے ان میں سے بعض تو حیا کی چوٹی پر پہنچ گئے تھے، انسان تو ر ہے انسان فرشتے بھی ان سے حیا کرتے تھے ۔


یہ ہیں عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ، جوحضور کے ایسے منظورنظر ہوے کہ سرکار دو عالم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے یکے بعد دیگرے اپنی دولخت جگر نور نظر بیٹیاں ان کے عقد سے منسلک کر دیں ، ذوالنور مین سے ملقب ہوے ، اسلام کے بنی اعظم بنے ،

 جاہز جیش عسرت کہلاے اور زبان نبوت سے جنتی اور شہید جیسے باوزن القاب پاے حضورصلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم سے اتفاق واحسان محبت ومؤدت عفو در گذر اور ایثار وقربانی کی ایسی تعلیم پائی کہ خود شہید ہو گئیں لیکن مسلمانوں کے درمیان خوں ریزی کو پسندنہیں فرما یا-

 جن کی دولت نے نہ جانے کتنی مرتبہ اسلام کو سہارا دیا مسلمانوں کی آبرو بچائی اور ان کی غم خواری فرمائی بعض مرتبہ توان کی فیاضی پر حضورصلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے بحر رحمت میں تلاطم بر پا ہو گیا اور آپ نے ان کے مستقبل کی ضمانت لیتے ہوے فرمایا: اب عثان جو چاہیں کریں اللہ تعالی نے انہیں

معاف فرما دیا ہے۔

  

نام ونسب : آپ کا نام عثمان ہے ، نسب نامہ اس طور پر ہے عثمان بن عفان بن ابوالعاص بن امیہ بن عبداشمس بن عبد مناف قرشی اموی پانچویں پشت حضرت عبد مناف پر جا کر ان کا سلسلہ نسب حضورصلی اللہ تعالی علیہ و آلہ وسلم سے مل جا تا ہے ۔

Hazrat usman ke walid aur waldah ka naam

حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کی والدہ کا نام اروی بنت کریز ہے، آپ کی نانی ام حکیم البغاء ہیں ، ام حکیم اور حضورصلی اللہ تعالی علیہ و آلہ وسلم کے والد حضرت عبد اللہ دونوں جڑواں پیدا ہوے ، اس رشتہ سے حضرت عثمان کی والدہ حضورصلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی پھوپھی زاد بہن تھیں۔

Hazrat Usman ghani ka laqab aur kunniyat

پیدائش وکنیت صحیح قول پر آپ کی پیدائش واقعہ فیل کے چھ سال بعد ہوئی ۔ آپ کی کنیت ابوعبداللہ اورابوعمرو ہے ۔ علامہ جلال الدین سیوطی نے اس کی تفصیل یوں بیان فرمائی کہ زمانہ جاہلیت میں آپ کی کنیت ابوعمر تھی اسلام لانے کے بعد جب حضرت رقیہ کے شکم اطہر سے حضرت عبداللہ پیدا ہوے تو آپ کی کنیت ابوعبداللہ مشہور ہو گئی ۔

( تاریخ الخافاص:۱۱۹ )


حلیہ مبارکہ: آپ نہ بہت لمیے تھے نہ پست قد بلکہ آپ کا قدمیانہ تھا،چہرہ خوبصورت، رنگ گورا سرخ رنگت لیے ہوے، چہرے پر چند پیچک کے نشان تھے ، داڑھی مبارک گھنی ، ہڈیاں چوڑ یں ، کاندھے کشادہ ، پنڈلیاں بھری ہوئی ، ہاتھ لیے جن پر بالوں کی کثرت تھی ،بال گھنگھرالے، دانت بہت زیادہ خوبصورت سونے کے تارے بند ھے ہوے تھے کنپٹی کے بال کانوں تک تھے ، آپ پیلے رنگ کا خضاب استعمال فرماتے

تھے۔ (تاریخ الخلفاص:۱۱۹)

البدایہ والنہا یہ ج ۱۰، ص: ۳۲۸ میں ہے وقيل كان في وجهه شي ء من آثار الجدری " کہا گیا ہے کہ ان کے چہرے پر چیچک کا کچھ اثر تھا اس سے سمجھ میں آ تا ہے چیچک کے اثر والاقول ضعیف ہے اوراگر صحیح بھی تسلیم کر لیا جاے تو لفظ شی بتارہا ہے کہ چہرہ مبارکہ پر ایک آدھ نشان تھا جس سے حسن پر کچھ اثر نہیں پڑتا بلکہ بسا اوقات حسن اور دوبالا ہو جاتا۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے