حضرت ابو بکر کا
قبول اسلام
قبول اسلام : حضرت عبد اللہ بن
عباس ، حضرت حسان بن ثابت ،حضرت عمرو بن عبسہ، ابراہیم نخعی اور علما کی ایک جماعت
کا نظر یہ ہے کہ حضرت ابوبکر نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا۔
حضرت عبد اللہ
بن حصین تمیمی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ
وسلم نے فرمایا: ” میں نے جس انسان پر بھی اسلام پیش کیا اس انسان نے اس میں شک
وتردد اورغور وفکر کیا لیکن ابوبکر نے
ایسا نہیں کیا۔
حضرت ابوبکر رضی اللہ
تعالی عنہ بیان فرماتے ہیں: ’’ میں مبعوث ہونے والے نبی کے متعلق سنتار ہتا تھا، میں
اپنی شنگی بجھانے کے لیے ورقہ بن نوفل کے پاس گیا جنہیں کتب سماوی کی خاصی معرفت
حاصل تھی، میں نے ان سے جاکر اپنی بات بیان کی، تو ورقہ نے فرمایا: ہاں
بھتیجے اہل کتاب اور علما اس بات پر متفق ہیں کہ ایک نبی مبعوث کیے جائیں گےاور ان
کا تعلق عرب کے بہترین نسب سے ہوگا۔
حضرت ابو بکر رضی اللہ
تعالی عنہ فرماتے ہیں: مجھے نسب کی خاصی معلومات تھی مجھے معلوم تھا کہ حضور کی قوم
نسب کے اعتبار سے اوسط العرب ہے ۔ (سب سے بہتر ہے میں نے ورقہ سے پو چھا نبی کیا
کہیں گے؟ تو ورقہ نے جواب دیادہ وہی کہیں گے جوانہیں حکم دیا جاۓ گا مگر یہ کہ ظلم
سے ان کا کوئی تعلق نہ ہوگا۔
(اسد الغابہ ج ۳:ص ۳۱۲)
حضرت عبد اللہ
بن مسعود فرماتے ہیں: حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہ
نے بعثت سے پہلے یمن کا سفرکیا اور یمن میں آپ کی ملاقات اہل کتاب کے ایک
بزرگ عالم سے ہوئی ، پھر دونوں میں ایک مکالمہ ہوا۔
عالم: آپ مجھے حرم کے رہنے والے
معلوم ہور ہے ہو؟
ابوبکر: آپ کا گمان صحیح
ہے میں حرم ہی کار ہنے والا ہوں۔
عالم: آپ
قبیلہ قریش کے تمیمی فرد ہیں؟
ابوبکر: ہاں میں قریشی ہوں اور
تمیم بن مرہ کی اولاد سے ہوں۔
عالم: اب آپ سے متعلق ایک علامت کی جستجو میرے ذہن میں باقی ہے؟
ابوبکر: پوچھیے! آپ کیا
پوچھنا چاہتے ہیں؟
عالم: میری تلاش تب مکمل ہو سکے
گی جب آپ اپنا پیٹ مجھے دکھائیں گے۔
ابوبکر: یہ تو میں تب ہی کر سکتا ہوں جب آپ مجھے مطمئن کریں کہ آخر آپ چاہتے کیا
ہیں؟
عالم: میں اپنے صحیح اور صادق
علم کی بنیاد پر جانتا ہوں کہ سرز مین مکہ میں ایک نبی مبعوث ہوں گے، ایک جوان اور
ایک ادھیڑ عمر کا انسان ان کے معاملے میں ان کے مددگار ہوں گے-
جوان شخص کی خوبی یہ ہوگی کہ وہ
مہمات کو سر کر نے والا اور مشکل معاملات کو آسان کرے گا ، اور ادھیڑ عمر والے شخص
کا رنگ سفید ہوگا جسم لاغر و نحیف ہوگا ، اس کے پیٹ پرتل ہوگا اور بائیں ران پر
ایک علامت ہوگی ۔ اے مکی انسان! مجھے ساری نشانیاں تمہاری ذات میں نظر آ رہی ہیں
وہی نشانی باقی رہی ہے جو میں نے ابھی تمہارے سامنے بیان کی ہے اب دیر کیوں کرر ہے
ہو ، چلو جلد مجھے میرامطلوب دکھادو۔
ابوبکر: تم دیکھ سکتے ہو، کہا
اور اپنے پیٹ سے کپڑا ہٹا دیا ۔ جیسے ہی کپڑا ہٹایا تو آپ کے اوپر بزرگ
عالم کو ایک کالا تل نظر آیا۔
عالم: رب کعبہ کی قسم! تم
وہی انسان ہو ، میں خود چل کر تمہارے پاس آنا چاہتا تھا ،آنے کی خاص وجہ یہ تھی
کہ تمہیں بتانا چاہتا تھا کہ تم راہ ہدایت سے نہ ہٹنا اور اللہ نے تمہیں جو
نعمت بخشی ہے اس کے بارے میں ہوشیار رہنا اور ڈرتے رہنا۔
ابوبکر: میرا یمن کا کام پورا ہو چکا ہے اب میں یہاں سے رخصت ہونا چاہتا ہوں ۔
عالم: تم مکہ جار ہے ہو لیکن
وہاں جانے سے پہلے میرے وہ شعر سنتے جاؤ جو میں نے اس نبی کی شان میں کہے ہیں، یہ
کہہ کر اس بزرگ عالم نے حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہ کو چند شعر سناۓ ۔
حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ
فرماتے ہیں : جب میں واپس مکہ پہنچا تو نبی صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم اعلان
نبوت فرما چکے تھے،میری ملاقات عقبہ بن ابی معیط ،شیبہ،ربیہ ابوجہل، جیسے رؤساے
قریش سے ہوئی ،
میں نے ان سے کہا: کیا
یہاں کوئی معاملہ پیش آیا ہے؟ انہوں نے کہا ابوبکر ! یہاں ایک امر عظیم در پیش ہے
ابوطالب کے یتیم نے یہ دعوی کر دیا ہے کہ وہ اللہ کا رسول اور پیغمبر ہے ۔ ، ہم
ابھی تک تمہارے انتظار میں تھے، اب فیصلہ تمہارے اوپر ہے حضرت ابو بکر رضی اللہ
تعالی عنہ فرماتے ہیں: میں نے ان لوگوں کو اچھے طریقے سے واپس کر دیا
اور حضور صلی اللہ تعالی علیہ
وآلہ وسلم سے متعلق در یافت کیا تو پتہ چلا کہ آپ حضرت خدیجہ کے گھر تشریف فرما
ہیں، میں وہاں پہنچا دروازہ کھٹکھٹایا آپ باہر تشریف لاۓ ، میں نے عرض کیا! آپ
یہاں تشریف فرما ہیں؟
آپ نے اپنے آبا و اجداد کے
دین کو ترک کر دیا ہے؟ حضور صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابوبکر!
مجھے تمام لوگوں کی طرف اللہ تعالی نے رسول بنا کر بھیجا ہے لہذا تم اللہ تعالی پر
ایمان لے آؤ۔
میں نے کہا اس کی دلیل کیا
ہے؟ آپ نے فرمایادہ بوڑھا شخص جو تمہیں یمن میں ملا تھا وہی میرے دعوے کی دلیل ہے،
میں نے کہا وہاں تو میں نے کئی بوڑھوں سے ملاقات کی ہے ۔ آپ نے فرمایا: وبوڑھا جس
نے تمہیں اشعار سناۓ تھے ۔ میں نے عرض کیا ! یہ خبر آپ کو کس نے دی ؟
آپ نے فرمایا: اس فرشتے نے جو
مجھ سے پہلے انبیاء کرام کے پاس حاضر ہوتا رہا ہے۔ میں نے عرض کیا حضور اپنا دست
کرم بڑھائیں’’ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالی کے سوا کوئی مستحق عبادت
نہیں اور آپ اللہ کے سچے رسول ہیں‘‘حضرت ابوبکر فرماتے ہیں: جب میں ایمان لاکر
واپس جارہا تھا تو پوری وادی مکہ میں حضور مجھے سب سے زیادہ خوش نظر آ رہے
تھے۔(اسد الغابہ ج،۳
ص:۳۱۳)

0 تبصرے