حضرت ابو بکراور تبلیغ اسلام | حضرت ابو بکر کی کوشش سے اسلام لانے والے لوگ

 

حضرت ابو بکراور تبلیغ اسلام:

 


حضرت ابو بکر اور تبلیغ اسلام: اسلام کے ابتدائی دور میں جن مصائب و آلام کا سامنا بانی اسلام اور آپ کے تبعین کو کرنا پڑا اس کے تصور ہی سے اہل ایمان کے دل سینوں میں کانپنے لگتے ہیں،

 

 پھر حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہ تو اس شاہ راہ کے مسافر اول ہیں دو کتنی پر خطر اور مہلک وادیوں سے گذرے یہ اللہ و رسول جل مجد ہ ولی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم یا پھر حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہ ہی بہتر جانتے ہیں ۔ ہمارا قلم کماحقہ حقیقت کی عکاسی کرنے سے عاجز ہے۔

 

ہزاروں درود اور ہزاروں سلام ہوں اللہ کے رسول اور ان کے سچے یار غار حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہ پر کہ تمام تر رکاوٹوں کے باوجود اشاعت اسلام کے لیے جاں توڑ کوشش جاری رکھے ہوے ہیں۔

 

آپ پڑھ چکے ہیں کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہا اپنی قوم میں ایک معزز انسان تھے لوگوں کے دلوں میں آپ کا خاصا وقار قائم تھا ، اس وقار اور عزت کو بھی داؤ پر لگانے کا عزم کر چکے ہیں ،زمانہ جاہلیت میں آپ کے جن لوگوں سے دوستانہ مراسم تھے ان کے پاس آمد ورفت بڑھائی۔

 

 اسلام کا بنیادی پیغام جو انہیں ان کے آقا نے پڑھایا اورسکھایا تھا اپنے دوستوں کے سامنے بیان کرنا شروع کیا کل تک لوگ آپ کے در پر اپنی حاجتیں اور ضرورتیں لے کر آتے تھے لیکن آج تصویر کا رخ بدل گیا ہے خود ابو بکر چل کر لوگوں کے دروازے پر پہنچتے اور لوگوں کو پیغام حق پہنچاتے-

 

نتیجہ کیا ہوگا اس کی انہیں فکر نہیں ان کے سامنے تو رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کا رخ ز یبا ہے اپنے آقا کو دیکھ رہے ہیں کہ وہ اسلام کی ترقی کے لیے کتنے فکر مند ہیں لوگوں کو جہنم کے راستے سے ہٹا کر صراط مستقیم پر گامزن کر نے کے لیے جان کی بازی لگاۓ ہوۓ ہیں۔

 

ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کو ہرلمحہ یہی فکر دامن گیر ہے کہ وہ اس راہ میں اپنے آقا کوکتنا سہارا دے سکتے ہیں، اللہ تعالی سچی کوشش کر نے والوں کو مایوس نہیں فرماتا ، کوششوں کے بار یاب ہونے میں وقت کتنا لگے گا یہ تو عالم الغیب کی حکمتیں ہی جانتی ہیں لیکن اتنا طے ہے کہ کوششیں ضائع نہیں جاتی-


حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہ کو بھی اللہ تعالی نے ان کی کوشش کا نتیجہ عطافرمایا اورخوب خوب عطا فرمایا ، چند لوگ آپ کی کوشش پر ایمان لے کر آۓ ، آپ کی ابتدائی کوششوں پر جولوگ ایمان لے کر آئے وہ کہنے کو تو چند افراد ہیں لیکن حقیقت میں وہ اسلام کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔

 

حضرت ابو بکر کی کوشش سے اسلام لانے والے لوگ:

 

حضرت ابو بکر کی کوشش سے اسلام لانے والے لوگ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان فرماتی ہیں: جب حضرت ابو بکر ایمان لا چکے تو آپ عثمان بن عفان۔

 

طلحہ بن عبید اللہ زبیر بن عوام اور سعد بن ابی وقاص کے پاس پہنچے ان لوگوں کو اسلام کی دعوت دی ، یہ تمام حضرات اسلام لے آۓ ، پھر دوسرے دن عثمان بن مظعون ، ابوعبید و بن جراح ،عبد الرحمن بن عوف ، ابوسلمہ اور ارقم بن ابوارقم کے پاس پہنچے اور دعوت اسلام دی تو یہ حضرات بھی دامن اسلام سے وابستہ ہو گئے ۔‘‘

 Hazrat usman ghani radi allah t'ala anh

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے