فرعونیوں پر پانی کا عذاب

 فرعونیوں پر پانی کا عذاب 

فرعونیوں پر پانی کا عذاب


حضرت موسی علیہ السلام کے عصامبارک کا اژدہا بن جانا د یکھ کر فرعون کے خوش نصیب جادوگر حضرت موسی علیہ السلام پر ایمان لے آئے لیکن فرعون اور اس کی سرکش قوم اپنے کفر سے باز نہ آئی۔

حضرت موسی علیہ السلام نے یہ شرکشی دیکھ کر ان کے حق میں بدعا فرمادی ۔اور عرض کیا کہ الہی ! فرعون بہت سرکش ہو گیا ہے ۔اور اس کی قوم بھی عہد شکن اور مغرور ہوگئی ۔انہیں ایسے عذاب میں گرفتار کر جو ان کے لئے سزا ہو ۔

اور میری قوم اور بعد والوں کے لئے عبرت ‘‘ حضرت موسی علیہ السلام کی یہ دعا قبول ہوگئی ۔اور اللہ نے فرعونیوں پر ایک طوفان بھیجا۔ابر آیا۔اندھیرا چھا گیا اور کثرت سے بارش ہونے لگی ۔فرعونیوں کے گھر میں پانی ان کی گردنوں تک آ گیا۔ان میں جو بیٹھا ڈوب گیا۔ نہ ہل سکتے تھے ۔

نہ کچھ کام کر سکتے تھے سنیچر سے سنیچر تک سات روز تک ایسی مصیبت میں مبتلا رہے اور قدرت خداوندی کا کرشمہ دیکھئے ۔ کہ باوجود یہ کہ بنی اسرائیل کے گھر ان فرعونیوں کے گھروں سے متصل تھے مگر بنی اسرائیل کے گھروں میں پانی نہ آیا۔

جب یہ لوگ عاجز ہوۓ تو حضرت موسی علیہ السلام سے عرض کیا۔ کہ ہمارے لئے اس مصیبت کے ٹل جانے کی اپنے رب سے دعا فرمائے ۔ یہ مصیبت ٹل گئی تو ہم پرایمان لے آئیں گے۔ چنانچہ حضرت موسی علیہ السلام نے دعا فرمائی تو طوفان کی مصیبت رفع ہو گئی۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے