شمع اور اس کے پروانے

 

شمع اور اس کے پروانے

برادران یوسف نے یوسف علیہ السلام کو جنگل میں ایک تار یک کنوئیں میں پھینک دیا۔ اللہ نے آپ کو بچالیا۔ اور ایک خوش نصیب قافلے نے اس طرف سے گزرتے ہوئے کنوئیں سے پانی نکالنا چاہا۔

تو حضرت یوسف علیہ السلام اس ڈول کے ساتھ باہر گئے اور قافلے والوں کاستارہ قسمت چک اٹھا۔ یہ خوش نصیب قافلہ حضرت یوسف علیہ السلام کومصر لے آیا اور جب یوسف علیہ السلام کے مصر تشریف لانے کی خبر مشہور ہوئی تو صدہا آدمی صبح ہی صبح سالار قافلہ مکان کی چھت پر چڑھ کر بولا۔لوگو! تم یہاں کیوں آۓ ہو؟ وہ بولے آپ کے ساتھ جو کنعانی غلام ہے ۔

ہم اس کی زیارت کے لئے آۓ ہیں۔سالار قافلہ نے کہا۔اچھا جو شخص اس کی زیارت کر نا چا ہے وہ ایک اشرفی منہ دکھائی دے۔سب نے اس شرط کو منظور کر لیا۔ اور دروازہ کھولنے کی درخواست کی ۔سالار قافلہ نے دروازہ کھولا اور مکان کے بحن میں حضرت یوسف علیہ السلام کو ایک کرسی پر بٹھایا۔

ہرشخص ایک ایک اشرفی حضرت یوسف علیہ السلام کے پیروں میں ڈال کر آپ کی زیارت کر تا تھا۔اسی طرح دو دن میں سالار قافلہ کے پاس ہزاروں اشرفیاں جمع ہوگئیں۔ پھر تیسرے دن اس نے منادی کرادی کہ جوشخص کنعانی غلام کے خریدنے کا ارادہ رکھتا ہو۔

وہ آج مصر کے بازار میں چلا آئے یہ منادی سن کر ہرایک شخص آپ کی خریداری پر آمادہ ہو گیا۔اور سارامصر آپ کو د یکھنے آیا۔ یہاں تک کہ پردہ والی عورتیں اور عبادت گزار بڈھے اور سارے گوشہ نشین بھی آپ کی زیارت کے مشتاق ہو کر مصر کے بازار میں آ گئے اور خود عزیز مصر بھی شاہی خزانے ساتھ لے کر خریدار یوسف بن کر آ گیا۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے